مذہب اور تہذیب کا تضاد

 

 
 
        مذہب اور تہذیب کا تضاد
  دانیال رضا
 

ایک بہت بڑی سماجی غلطی اور شعوری جرم جو عام طور پر کیا جاتا ہے جس سے ملا اپنی دوکانداری چلانے اور ظالم حکمران اپنا استحصال جاری رکھنے کے لیے بھی عوامی ذہنوں کو زہر آلود کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ مذہب اور ثقافت کو ایک ہی شے تصور کیا جا تا ہے یا کرایا جاتا ہے اسی وجہ سے بہت سے عام لوگ مذہب اور ثقافت میں فرق نہ کرنے اور نہ سمجھنے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو کر کئی قسم کے ناگہانی خوف وہراس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور زندگی کو زندگی کی طرح گزارنے کی بجائے زندگی کو مشکل امتحان تصور کر کے زندگی میں ہی موت کے بھیانک عذاب کا شکار ضرور ہو جاتے ہیں۔ یہ مذہب کو چھوڑنا ثقافتی بے حرمتی سمجھتے ہیں اور مذہب سے چمٹے رہنا ثقافتی ورثہ خیال کرتے ہیں ۔ جبکہ مذہب اور ثقافت  آپس میں متضاد ہی نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں اور ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں ۔ مذہب اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے پہلے ان کی تعریف کرنا ضروری ہے ۔
آسان الفاظ میں ثقافت انسانوں کے کسی گروہ کا کسی خاص علاقے میں مشترکہ طور پر مخصوض ماحول کے مطابق رسم ورواج اور ضرورتوں کے تحت ایک زبان، لباس،اقدار کے حوالے سے زندگی گزرنا کہلاتاہے جو انسانی محنت کی ہیت و کیفیت یا زرائع پیداوار کی نوعیت کے گرد گھومتی ہے ۔ اور یہ رسم ورواج یا انسانی تہذیب سماجی ارتقار کے دروان ا پنے موسم ، ماحول اور آلات پیداوار سے جنم پذیر ہوتے ہیں جس سے اس میں مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رہتا اور تہذیب وتمدن پروان چڑھتا ہے ۔ رسم رواج یہاں کے لوگوں کی زندگی کا احساس بن جاتے ہیں۔ثقافت کا براہ راست تعلق زمین اور ٹھوس مادی حالات سے ہے جبکہ مذاہب کا تعلق آسمانوں اور غیر مادی حالات سے جوڑ ہوتاہے ۔ثقافت زمین سے اگتی ہے لیکن مذہب آسمان سے ٹپکتا ہے ۔ ثقافت انسانی تاریخی ورثہ ہے جبکہ مذہب کوئی انسانی ورثہ نہیں اور نہ ہی یہ اس کو مانتا ہے بلکہ تمام مذاہب ہر تاریخی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی نفی کرتے ہیں اور اپنی اعلی و بتر حاکمیت کا بازور طاقت تقاضہ کرتے ہیں جس سے ان میں ناقابل حل لڑائی اور تضاد موجود ہے ۔ ثقافت کسی جبر کو نہیں مانتی بلکہ اس کی انکاری ہے ۔ ثقافت کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ انسان اسی کے تحت زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جبکہ مذاہب انسانوں اور معاشرے سے نہیں ہوتے اس لیے انکو اپنے نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے مذہب میں جبر کا عنصر آنا غیر منطقی نہیں ہے ۔ مذاہب کی جبریت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ مذہب تمام دنیا کے لیے ایک ہی ہے اور ایک جیسا ہی ہوتا ہے یعنی مذہب تمام انسانی تاریخی ثقافت اور تہذیبی ورثے کو ورند کر ہی ممکن ہے کیونکہ اس میں کوئی تبدیلی کی گنجائش ممکن نہیں ہوتی جبکہ ثقافتیں مختلف اور علاقائی ہوتی ہیں جن میں مسلسل ارتقائی عمل جاری رہتا ہے جس سے یہ سماج میں تعمیرو ترقی کا باعث بنتی ہیں جبکہ مذاہب اس کے الٹ سماج کو ماضی میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مذہب کو نہ مانے سے اذیت ناک اور خوفناک سزائیں ملتی ہیں یعنی مذاہب کی بنیاد خوف ہے جبکہ ثقافت رضاکارانہ ہے جس کو نامانے کی کوئی سزا نہیں ہے جبکہ ثقافتی اقدار حقیقی خوشی اور مسرت کا ذریعہ ہیں ۔ثقافت انسانی شعور اور اسکے رویوں کی اعکاس ہے ۔ جبکہ مذہب اس سے لاتعلق ہے ۔ مذہبی خود بننا پڑتا ہے لیکن ثقافتی بننا نہیں پڑتا کیونکہ ہر انسان میں ا پنے سماج کا ثقافتی رنگ بڑی مضبوطی سے موجود ہوتا ہے ۔ مثلا برصغیر میں رنگین یا شوخ و چنچل شلوار قمیض، دھوتی کرتہ یا عورتوں کا دوپٹہ کو ئی مذہبی لباس نہیں ہے بلکہ ثقافتی لباس ہے جو انڈو پاک میں مسلم ، ہندو ، عیسائی اور سکھ تمام مذاہب کے لوگ پہنتے ہیں خواک ، میوزک ، گیت ، رہن سہن ، شادی بیاہ کی رسم ورواج ، وغیرہ مذہبی نہیں ہیں بلکہ علاقائی ثقافتی ہیں ۔ جب کہ پاکستان میں عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت خیال کیا جاتا ہے اور اسکو اپنانے کی خود ساختہ کوشیشیں کی جاتیں ہیں جو بالکل غلط ہے کیونکہ عرب میں پیٹ کا رقص ، گھوڑ سواری یا اونتوں کی ریس وغیرہ وہاں کی ثقافتی روایات کا حصہ ہیں جو یقیناًاسلام میں ممنوع ہیں ۔ اس لیے ثقافت ایک علاقائی فطری عمل کا نام ہے جبکہ مذاہب مصنوعی ، سطحی اور غیر سماجی نظرایات کی غمازی کرتے ہیں ۔
تہذیب و ثقافت انسانی سماجی ارتقا کا تسلسل ہے جبکہ مذاہب ارتقا کی مذمت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف شدید مذاحمت بھی کرتے ہیں ۔ رسم وراج ، اقدار ، لباس ،رنگ ، زبان ، موسیقی اورگیت زندگی کا احساس ہے جبکہ مذاہب انسانی احساسات سے عاری  ہیں جس میں خوشی سے زیادہ غم ہے یہ صرف  احکامات اور اسکی سختی سے تکمیل کا نام ہے یعنی جزا اور سزا کا جس میں فوقیت سزا کو ہی حاصل ہے ۔ ثقافت تغیر پذیر ہے جبکہ مذاہب حتمی اور مستقل کہلاتے ہیں اس کے باوجود کے سماجی تبدیلیاں انکی شکلیں بدلتی رہتی ہیں کیونکہ تمام مذاہب جو زمانہ قدیم میں تھے وہ آج بالکل اسی طرح موجود نہیں ہیں جس طرح ماضی میں تھے اور نہ ہی یہ اس طرح رہ سکتے ہیں ۔ آج چودہ سو احادیث کو ضعیف یا کمزور کہہ کر در کر دیا گیا ۔ قران پاک کے کئی مختلف ترجمے بازار میں موجود ہیں کیونکہ عربی زبان کے ہر لفظ کے کم ازکم بارہ معنی ہیں اور ہر فرقہ دوسرے کے ترجمے کو نہیں مانتا ۔ بائبل ، گرو گرانتھ ، تور ایت یا دوسری مذہبی کتابوں بھی تبدیل ہو چکی ہیں اور آج اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں ۔اور یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ جبکہ تمام مذاہب کو بظاہر ٹھوس اور آخیری کہا ضرور جاتا ہے ۔تہذیبیں اور ثقافتیں کھبی آخیری اور مکمل نہیں ہوتیں جبکہ مذاہب مکمل اور آخیری کہلاتے ہیں ۔ مذاہب غیر لچکدار جبکہ رسم ورواج لچکدار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ
تمام مذاہب پر سماجی حالات کابہت گہرا اثر ہوتا ہے ۔خوشحال اور پرسکون معاشروں میں جنونیت ، کٹر پن کی بجائے آزاد خیالی، اور ترقی پسندی کا رجحان نمایاں ہو تا ہے ۔جبکہ انتشار زدہ اور معاشی بدحال ممالک میں تنگ نظری، خون اور وحشت مذاہب میں اپنا مسکن بنا لیتی ہے ۔ پاکستان میں مذہبی درندگی اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے ۔ جبکہ یورپی اور ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان پاکستان جیسے پسماندہ اور انتہائی رجعتی نہیں ہیں کیونکہ جدید اور خوشحال سماجی حالات  شعور کو متاثر کرتے ہیں ۔  اسی طرح امیر مذہبی اور غریب مذہبی میں بہت فرق پایا جاتا ہے مذہب بے شک ایک ہی ہو لیکن اس پر عمل درآمد اور لگاو ماحول اور معاشرہ بدل دیتا ہے ۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب پاکستانی سماج آج کی نسبت کہیں بہتر تھا تب مذہبی جنونیت اتنی درندہ صفت اور خونی نہیں تھی جتنی آج ہو چکی ہے ۔ جس کی بڑی وجہ سرمایہ داری اور سامراجیت کا استحصال  قائم رکھنے اور اسکے خلاف عوامی تحریکوں کی مذاحمت کو تباہ کرنے کے لیے مذاہب میں مقامی اور عالمی سرمایہ کاری سے چلنے والے بڑے منافع بخش کاروبار ہیں ۔  ایک طرف خوفناک طبقاتی تفریق ہے تو دوسری طرف عوامی مایوسی سے جنم لینے والے رجعتی سماجی حالات ہیں جو انقلابی پارٹی اور قیادت کی عدم موجودگی میں عوام کو اپنی طبقاتی جدوجہد کے راستوں سے بھٹکا رہے ہیں اس سے مزدور تحریک میں ایک سکوت کی کیفیت ہے جس سے ملائیت کی موجودہ قتل گری کا تماشا قائم ہے ۔ فطرت کا یہ مسند قانون ہے کہ حالات کھبی ایک سے نہیں رہتے انکو لازم بدلنا ہو تا ہے اور پاکستان کے یہ بدتر حالات بھی بدلیں گئے جس کا فیصلہ کن رخ عوام کو ہی متعین کرنا ہو گا ۔
پاکستان کوئی ایک ملک نہیں بلکہ کئی مختلف زبانوں ، ثقافتوں اور تہذیبوں کا دل کش اور خوبصورت گوارہ ہے جس کو سرمایہ داری کی مرکزیت اور اس کے مالیاتی استحصال نے کچل کر خاکستر دیا ہے ۔ پیارومحبت اور موسیقی و رقص کی جگہ نفرتیں اور خانہ جنگیوں نے لے لی ہے۔ سرمایہ داروں ، جاگیر داروں ، وڈیروں ، فوجی جرنیلوں اور سرداروں کے حکمران طبقے نے اپنے بینک بیلنس میں اضافے ، جاگیروں میں بڑھوتری ، مالیاتی غلبہ اور اقتدار کی ہوص نے پاکستان میں تہذیب و ثقافت کی تعمیرو ترقی کے تمام راستوں کو بند کر دیااور بھوک ننگ افلاس کو پروان چڑھایا ان حالات میں انسانی زندگی کو قائم رکھنا ہی ممکن نہیں رہا ۔ اس میں تہذیب وثقافت کہاں پنپ یا زندہ رہ سکتی تھی ۔ پاکستان کے عوام اور محنت کش طبقے ان ابتر سماجی حالات کی تبدیلی کے لیے کئی بار سیاسی میدان میں اترا لیکن انکی روائتی پارٹیوں اور قیادتوں نے ان سے مسلسل غداری کی اور اسی سرمایہ کے جبر کو مختلف طریقوں سے جاری رکھا کھبی جمہوریت اور کھبی آمریت کی شکل میں کھبی مسلم لیگوں اور کھبی پیپلزپارٹی اور اب پی ٹی آئی کی شکل میں عوام نے تمام موجودہ پارٹیوں کی قیادتوں کو آزما لیا اور سب نے انکو ماسوائے مایوسی اور ناامیدی کے کچھ نہیں دیا اور جو دیا وہ ذلت اور رسوائی ہے ۔
پاکستان میں آج کے خون ریز حالات کا کوئی اور نہیں بلکہ موجودہ نظام اور اسکے حکمران ذمہ دار ہیں جومختلف نقاب اڑھ کر اور بھس بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی بنیادی تبدیلی نہیں ہوتی اور ان سب کی موجودگی میں ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ یہ چہروں کی تبدیلی ہی حقیقی عوامی اور سماجی تبدیلی میں بڑی روکاوٹ ہے ۔
پاکستان میں آج بہت سے ماضی کے بائیں بازو کے سٹالنسٹ رہنماوں میں اپنے نظرایات کی سیاسی اور سماجی کمزوری کے باعث سوشلسٹ انقلاب کی صلاحیت اور امید ٹوٹ چکی ہے جس سے انکا یہ نظریاتی خسی پن انکو این جی اوز اور نام نہاد ثقافتی تحریکوں میں دفن کر کے سرمایے کی دیوی کے قدموں پر سجدہ ریز کر چکا ہے ۔  کوئی جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ سے داغ دار ہے تو کوئی جئے سندھ کے تعصب کی بالی چڑھ چکا ہے کوئی پختون اور کوئی بلوچ نسل اور ثقافت کی کند چھری سے عوام کو ذبح کر رہا ہے جس میں سرائیکی تعصب کو بھی ابھارا جاتا ہے اور جن کا دا لگ گیا انہوں نے بیرونی امداد پر انسانی ہمدردی کا دھندہ شروع کر دیا یعنی این جی اوز کی دوکاندی چلا رہے ہیں ۔اب توچین میں ماو کے مسخ شدہ سوشلسٹ انقلاب پر ثقافتی انقلاب کا لیبل لگانے والے آج اس ٹریڈ مارک سے خود ہی شرمندہ ہیں اور پچھلے دنوں چین کے نئے وزیز اعظم نے سرکاری طور پر انقلاب سے معذرت بھی کر لی ہے ۔ جو یقیناًان ترقی پذیر ممالک میں ثقافتی تحریکوں اور موزئے تنگ کے نظریے انقلاب کو مزید مایوس کرئے گئی ۔ 
طبقاتی سماج میں طبقاتی تہذیب و تمدن اور ثقافت ہی راج کر تی ہے ایک طرف غربت کی ذلت ہوگی تو دوسری طرف امارت کی بے ہودگی ایک طرف احساس بدتری بڑھے گا تو دوسرے طرف احساس کمتری کا زہر ہر اخلاقیات کو برباد کر دے گا جو آج پاکستان کا ورثہ بن چکا ہے ۔ ثقافتی اقدار تب ہی زندہ رہ سکتی اور ترقی کر سکتی ہیں جب انسان خوشحال اور پر سکون ہوگا اور سماجی ترقی ہو گی۔ البتہ معاشرتی جمود میں زاول پذیر ثقافت اور ادب ہی عزت و اخترام کی کالی دستار کا حق داربنے گا۔ جب تک ان پسماندہ حالات سے ٹکرا کر انہیں تبدیل نہ کیا جائے ۔
جہاں بھوک اور غربت ہو گی وہاں زبان، ادب ، تہذیب و ثقافت انسانی سوچ سے بہت چلے جاتے ہیں نازک ، شگفتہ ، ملائم اور جمالیاتی احساسات پتھر بن جاتے ہیں ۔ جب تک انسان کی اقتصادی ضروریات کو پورا نہیں کیا جاتا کوئی انسانی اور سماجی آزادی ممکن نہیں ہے اور انسان کی حقیقی آزادی کا مطلب اس کی ضرویات سے آزادی ہے جس کے بغیر کوئی زبان و ادب اور تہذیب و تمدن اور ثقافتی اقدار آزاد نہیں ہو سکتیں ۔ اس کے لیے ہمیں مذہبی بنیاد پرستی اور طبقاتی استحصال کو مسترد کرتے ہوئے سرمایے کے بوجھ تلے کچلی ہر انسانی آزادی کو آزاد کرانا ہو گا ۔

Aside

THE PUNISHMENT FOR APOSTASY FROM ISLAM

During Muhammad’s lifetime, and the lifetimes of the next 4 “Rightly Guided Caliphs”, a number of Muslims left the faith of Islam.  The punishment for leaving Islam was death.  Those that had left the faith were either killed outright, or were given a few days to turn back to Islam.  If they persisted in leaving Islam they were put to death.  This death sentence is in effect whether or not the apostasy occurred in an Islamic state or not

INTRODUCTION

One of the more controversial topics for Muslims in the West is the punishment for apostasy from Islam.  Muslims living in the Mideast have no problem with the concept of putting apostates to death.  But to Muslims living in the West it is an embarrassing Islamic edict.  The West values freedom of thought and freedom of speech are two virtues that have never blossomed under Islam.  Consequently when asked about the Islamic law for apostates Muslims in the West hide behind excuses such as “only a true Islamic state can execute apostates”, or “punishment was carried out because those apostates were threats to the new Islamic state, and it is not needed anymore”. What exactly was the law during Muhammad’s and the Caliph’s time?  What were the requirements for a death sentence to be carried out?  Was the sentence only for a short period of time?  Was it only to be administered under a “true Islamic state”, or did it apply to anyone who had left Islam?  A close examination of the Quran, Hadith, and Sirat will show that indeed, the punishment for leaving Islam, either under an Islamic government, or not, was execution. To begin with, the Quran does not come out and explicitly state that apostates should be murdered.  However, there are a number of Quranic verses that pertain to apostasy, and they shed some light on the punishment for apostates.

Starting with the Quran. Sura 9:73,74

“Prophet, make war on the unbelievers and the hypocrites and deal rigorously with them.  Hell shall be their home:  an evil fire.  They swear by God that they said nothing.  Yet they uttered the word of unbelief and renounced Islam after embracing it.  They sought to do what they could not attain.  Yet they had no reason to be spiteful except perhaps because God and His apostle had enriched them through His bounty.  If they repent, it will indeed be better for them, but if they give no heed, God will sternly punish them, both in this world and in the world to come.  They shall have none on this earth to protect or help them.”   [Dawood]

We see here that Allah urges Muhammad to “make war” on the people who have left Islam.  It also states that “Allah will punish them in this world and in the world to come”.

What exactly Muhammad was to do to the people in his “making war” on them is not explicitly stated, but it can be surmised that they will be physically punished, if not outright killed.  Further, Allah Himself is also going to punish those who leave Islam.  What is His punishment?  Whatever it is, is will be unpleasant.

Sura 47:23-28

 “If you renounced the faith, you would surely do evil in the land, and violate the ties of blood.  Such are those on whom God has laid His curse, leaving them deaf and sightless…. Those who return to unbelief after God’s guidance has been revealed to them are seduced by Satan and inspired by him….

Again, God is punishing people, in this world, but the totality of punishment isn’t detailed… other than becoming “deaf and sightless”.  No doubt this is spiritual blindness, because millions have left Islam and have never become physically blind.  Note also Muhammad’s fear and hatred of and toward those that have left Islam – he claims that they will “do evil in the land and violate the ties of blood.”  Perhaps his mistake assumption is his justification for ordering the killing of apostates.

Additionally one could review Sura 3:86-91 and Sura 16:106.  These verses clearly state that apostates will be punished in hellfire.  However, though it is implied, the punishment meted out while they live is unclear.   Sura 4:137, similarly shows that God will not forgive the apostates, but no mention of a earthly punishment is made.

Finally, brief mention is made of apostates in 3:72, 5:54, 9:107 but none of these shed any penetrating light on the subject.

QURANIC VERSES SUMMARY

A review of  the Quran’s position on apostates:

Muhammad is to “make war” on them

Allah is going to punish them in this world and in the next

Allah curses them

They will be punished in hellfire

The Dictionary of Quranic Terms and Concepts – page 16, (written by M. Mir – a Muslim writer), defines the actual Quranic information as:

“APOSTASY. Arabic “irtidad”.  Traditional Islamic law prescribes the penalty of death for a Muslim who commits apostasy.  The punishment is not stated in the Quran, but is said to be based on certain Hadith.  The advocates and the opponents of the said penalty have, in their attempt to find Quranic support for their views, appealed to certain Quranic verses, but the fact is that none of the arguments offered do full justice to the Quranic context……”

  

THE TEACHINGS OF THE HADITH ON APOSTASY

 

It is from the Hadith that we draw our understanding and information on the punishment for the apostate.  From the Hadith, we find no ambiguity on the subject.  All quotes will be from Bukhari’s Hadith, from the 9 volume English set, translated by Dr. Muhammad Muhsin Khan.

 

Bukhari, volume 9, #17

 

“Narrated Abdullah:  Allah’s Messenger said, “The blood of a Muslim who confesses that none has the right to be worshipped but Allah and that I am His Messenger, cannot be shed except in three cases:  in Qisas (equality in punishment) for murder, a married person who commits illegal sexual intercourse and the one who reverts from Islam (Apostate) and leaves the Muslims.”

 

Bukhari, volume 9, #37

 

“Narrated Abu Qilaba:  Once Umar bin Abdul Aziz sat on his throne in the courtyard of his house so that the people might gather before him….He replied “By Allah, Allah’s messenger never killed anyone except in one of the following three situations:  1)  A person who killed somebody unjustly, was killed (in Qisas,)    2) a married person who committed illegal sexual intercourse and,  3) a man who fought against Allah and His messenger, and deserted Islam and became an apostate….

Sex jihad in Syria: Tunisian girls return pregnant and AIDS positive

The Arabic media has been full of interviews with some of the many Tunisian girls that went to the sex jihad in Syria. The other day Tunisian newspaper Al Sharaouk (“Sunrise) shed light on the horrific experiences of one of these girls. (source) Sex Jihadist Catches AIDS Serving Servicing Free Syrian Army Holy Warriors Posted By Daniel Greenfield On

کراچی کی یہودی مسجد

یہودی قبرستان کا ایک منظر -- فوٹو -- اختر بلوچ

یہودی قبرستان کا ایک منظر — فوٹو — اختر بلوچ


قیامِِ پاکستان کے بعد ہم نے کراچی میں تاج برطانیہ کے دور میں شہر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کے ناموں سے منسوب تمام عمارتوں اور سڑکوں کے نام تبدیل کر دیے۔ یہ کوشش تا حال جاری ہے۔

یہ ہی سب کچھ ہم نے یہود و ہنود کے ساتھ بھی کیا۔ یہود و ہنود کی حد تک تو ہم کسی سطح تک کامیاب بھی ہوئے۔ لیکن تاج برطانیہ کے حوالے سے ہم کہیں کہیں ناکام بھی رہے۔

یہود سے ہماری نفرت دیرینہ ہے۔ اس کا احساس ان کو بھی تھا اس لیے وہ آہستہ آہستہ یہاں سے بیرونِ ملک خصوصاََ اسرائیل منتقل ہو گئے۔

یہودیوں کی کراچی میں موجودگی کے حوالے سے محمودہ رضویہ اپنی کتاب ملکہ مشرق کے صفحہ نمبر 146 پر لکھتی ہیں کہ یہودی لارنس کوارٹر میں آباد ہیں۔ ملازم پیشہ اور عرفِ عام میں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ذبیحہ اپنا الگ کرتے ہیں۔ ایک ہیکل اور سیمٹری ہے۔ ان کی آبادی بہت کم ہے۔ تعلیم یافتہ اور خاصے خوشحال ہیں۔

ایٹکن کی مولفہ سندھ گزیٹیر مطبوعہ 1907 میں یہودیوں کی کراچی آبادی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ 1901 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد صرف 428 ہے۔ یہ سب تقریباََ کراچی میں آباد ہیں۔ اکثر کا تعلق بنی اسرائیل برادری سے ہے۔

محمد عثمان دموہی اپنی کتاب ’کراچی تاریخ کے آئینے‘ میں کے صفحہ نمبر 652 پر لکھتے ہیں کہ کراچی میں یہودیوں کا صرف ایک قبرستان تھا جو پرانا حاجی کیمپ کے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ یہ بنی اسرائیل قبرستان کہلاتا تھا۔ اس حوالے سے محمودہ رضویہ لکھتی ہیں؛

پرانی جوئین سمیٹری عثمان آباد سے ملحق ہے اور حاجی کیمپ کے جنوب مشرق میں بنی اسرائیل (یہودیوں)کا قبرستان ہے۔

محمودہ رضویہ نے کراچی میں یہودیوں کی دو عبادت گاہوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کو تلاش کرنے سے قبل ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جو یہودی کراچی سے اسرائیل منتقل ہوئے وہ کس حال میں ہیں اور کراچی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

سولجر بازار کا ڈینئل 

اس بارے میں معروف قلم کار اور صحافی محمد حنیف جنھوں نے خوش قسمتی سے اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس وقت بین القوامی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستہ ہیں ۔ ان کا ایک مختصر سفرنامہ بی بی سی سے نشر ہوا تھا۔ جسے بعد ازاں نام ور ادیب اجمل کمال نے اپنے سہ ماہی جریدے آج کے شمارے نمبر 35 مطبوعہ 2001 میں شائع کیا تھا۔

محمد حنیف اسرائیل کے دورے کے دوران ایک تقریب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آخر میں کسی منتظم کو خیال آیا کہ میں نے تقریر نہیں کی۔ مجھے ہاتھ پکڑ کر اسٹیج پر کھڑا کردیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرا تعلق ہندوستان سے نہیں کراچی سے ہے۔ میں تو یوں ہی کام سے آیا تھا۔ لیکن آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ میری بات سن کر پہلی قطار میں بیٹھے ہوئے پکی رنگت اور فربہ جسم کے ایک چالیس پینتالیس سالہ آدمی نے زور سے سسکی لی۔ میں اسٹیج سے اترا تو اس نے آکر میرا ہاتھ پکڑا، ایک کونے میں لے کر گیا اور گلے لگایا۔ یہ سولجر بازار کراچی کا ڈینئل تھا۔

“میں نے 68 کے بعد سے کوئی کراچی والا نہیں دیکھا”

اس نے سسکیوں کے درمیان مجھے بتایا؛

میں وہاں انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتا تھا، ہماری اپنی مسجد تھی۔ سن 67 کی جنگ کے دوران ایوب خان نے اس کی حفاظت کے لیے پولیس بھی بھیجی تھی”۔”

پھر اس نے دل پر ہاتھ رکھا اور کہا، “ہمیں وہاں کوئی تکلیف نہیں تھی۔ ہمیں کبھی کسی نے گالی نہیں دی۔ ہم نے بس دیکھا کہ سب یہودی لوگ اسرائیل جا رہے ہیں تو ہم بھی آگئے ہیں۔ آپ سولجر بازار کے ظفر خان کو جانتے ہو؟”

ڈینئل ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ایک ہندوستانی یہودی لڑکی سے شادی کر رکھی ہے۔ دو بچے بھی ہیں۔ خواہش یہ ہے کہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ کراچی ضرور دیکھ لے۔

“سنا ہے آج کل پھر کوئی فوج وغیرہ کی حکومت ہے وہاں، وہی چلا سکتے ہیں اپنے ملک کو بس۔”

باتوں باتوں میں ڈینئل نے بتایا اس کا اسرائیل, خاص طور پر رام الله میں دل نہیں لگتا۔

میں نے پوچھا کیوں؟

آپ کو پتا ہے کہ ہم پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی طبیعت میں بڑا فرق ہے۔ یہ لوگ ہمیں کبھی پسند نہیں کر سکتے۔ ہماری بھی ان کے ساتھ نہیں بنتی۔ ہمارے یہاں پر صرف تین چار خاندان ہیں۔ میری بیوی بھی ہندوستانی ہے لیکن وہ اپنے لوگوں والی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا یہ سب تو آپ کے یہودی بھائی ہیں۔  کہنے لگے ‘ہاں ہاں لیکن ہیں تو ہندوستانی!’

بنی اسرائیل ٹرسٹ 

ذکر ہو رہا تھا کراچی میں یہودیوں کی عبادت گاہوں کا۔ ان میں سب سے مشہور (Magain Shalome Synagogue (Bani Israel Trust کی عمارت تھی جسے آج بھی کراچی کے پرانے لوگ اسرائیلی یا یہودی مسجد کے نام سے پہچانتے ہیں۔ یہ رنچھوڑ لائن کے مرکزی چوک پر واقع ہے۔ جہاں اب اس کی جگہہ مدیحہ اسکوائر کی کثیر المنزلہ عمارت موجود ہے۔

madiha square - 670

کل کی یہودی مسجد، آج کا مدیحہ اسکوائر — فوٹو — اختر بلوچ –.

ہمارے دوست قاضی خضر حبیب نے اس سلسلے میں ہماری خاصی مدد کی۔ ان کے مطابق بنی اسرائیل ٹرسٹ کی آخری ٹرسٹی ریشل جوزف نامی خاتون تھیں جنہوں نے اس عمارت کا پاور آف اٹارنی احمد الہٰی ولد مہر الہٰی کے نام کر دیا تھا۔ ان میں ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ عبادت گاہ کی جگہ ایک کاروباری عمارت تعمیر کی جائے گی۔ عمارت کی نچلی منزل پر دکانیں جب کہ پہلی منزل پر عبادت گاہ تعمیر کی جائے گی۔

نچلی منزل پر دُکانیں تو بن گئیں اور پہلی منزل پر عبادت گاہ بھی۔ مگر اب عبادت گاہ کی جگہ رہائشی فلیٹ ہیں۔ ریشل جوزف اور مختلف افراد کے درمیان ٹرسٹ کی ملکیت کے حوالے سے مقدمہ بازی بھی ہوئی جس میں ریشل اور ان کے اٹارنی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

ریشل کی کراچی موجودگی کے بارے میں ہم نے اپنے ایک وکیل دوست جناب یونس شاد کے زریعے ان کے وکیل سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصہ پہلے لندن منتقل ہوگئیں تھیں۔

6 مئی2007 کو روزنا مہ ڈان میں شائع ریما عباسی اپنے ایک مضمون میں ریشل سے گفتگو کا حوالہ دیتی ہیں. یہ گفتگو یہودی قبرستان کے حوالے سے ہے۔ جس کی وہ آخری کسٹودین تھیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ 2007 تک کراچی میں موجود تھیں۔ جس کے بعد وہ یہاں سے چلی گئیں۔

یہودی قبرستان 

 اگلا مرحلہ یہودی قبرستان جانے کا تھا۔ ہم نے اپنے ایک صحافی دوست اسحاق بلوچ جو گولیمار کے رہا ئشی ہیں سے اس سلسلے میں مدد چاہی ۔انھوں نے بتایا کہ قبرستان کی نگرانی ایک بلوچ خاندان کرتا ہے۔ وہ ایک بار وہاں گئے تھے۔ بلوچ خاندان نے بہ مشکل انھیں اندر جانے کی اجازت دی۔ وہ بھی بغیر کیمر ے کے۔ ہم مایوس ہو گئے۔

اسحاق بلوچ نے ہمیں کہا کہ اس سلسلے میں نوجوان صحافی ابوبکر بلوچ سے بات کریں۔ ان کے رشتے داروں کے قبرستان کے نگران خاندان سے تعلقات ہیں۔ میں نے اس حوالے سے ابوبکر بلوچ سے بات کی اور ہمارے درمیان یہ طے پایا کہ اتوار کے دن میوہ شاہ قبرستان جا کر کوشش کریں گے.

قبرستان کا ایک منظر -- فوٹو -- اختر بلوچ

قبرستان کا ایک منظر — فوٹو — اختر بلوچ

اتوار کے دن ہم ابوبکر کے گھر لیاری کے علاقے نوالین پہنچے اور وہاں سے میوہ شاہ قبرستان۔ ابوبکر نے ایک پھولوں کی پتیاں بیچنے والی خاتون کی جانب اشارہ کیا۔ ہم نے جیسے ہی انھیں سلام کیا تو انھوں نے ناگوار نظر وں سے ہماری جانب دیکھا۔ انھیں اندازہ ہو گیا کہ ہم پھولوں کی پتیاں خریدنے نہیں آئے۔ وہ اردو میں بولیں تم لوگ اندر نہیں جا سکتے۔ میں نے ابوبکر کی جانب دیکھا۔ اُس بے چارے نے بلوچی میں کسی شریف بھائی کا حوالہ دیا۔

خاتون نے نازبو کے ڈنٹھل صاف کرتے کرتے ہماری طرف کچھ حیرت سے دیکھا اور پھر اردو میں اپنا پرانا جواب دہرایا۔ لیکن اب ان کے لہجے میں پہلی والی شدت نہیں تھی۔ ہم نے بھی بلوچی کا حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا اور ان سے بلوچی میں قبرستان دیکھنے کی اجازت چاہی۔

اب انھوں نے ہم سے بلوچی میں گفتگو شروع کی۔ ان کے لہجے سے دُر شتگی تقریباََ ختم ہو چکی تھی۔ انھوں نے کہا پہلے بھی کچھ لوگ آئے تھے۔ فوٹو بنا کر چلے گئے۔ ہم کو بڑا آسرا دیا کہ قبرستان ٹھیک کروا دیں گے۔ اس کی چار دیواری اونچی کروادیں گے۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ چار دیواری بھی ہم نے اونچی کروائی ہے نہیں تو لوگ سنگ مر مر کے پتھر بھی لے جاتے۔

انھوں سے بتایا کہ قبرستان میں 500 سے زیاہ قبریں ہیں۔ ہم لوگوں کو قبرستان کی حفاظت کرتے ہوئے 100 سال سے زیادہ کا عر صہ ہو گیا ہے۔

گفتگو کے دوران وہ ہمیں بار بار اس بات کا احساس دلاتی رہیں کہ ہمیں اندر جانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گی۔ لیکن ہم نے اپنی کوشش جاری رکھیں۔ آخر زِچ ہوکر انھوں نے کہا کہ ہم پیر والے دن ایک بجے آجائیں اور ان کے بیٹے سے ملیں۔

ہم تقریباََ مایوس ہو چکے تھے۔ اتنی دیر میں ایک موٹر سائیکل ہمارے قریب آکر رکی اور اس سے ایک نوجوان اترا۔ جو لنگڑا کر چل رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک اسٹک بھی تھی۔ یہ خاتون کا بیٹا عارف تھا۔ عارف نے ہماری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ان کی والدہ نے انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔

عارف نے بھی اردو میں بتایا کہ ہم اندر نہیں جا سکتے۔ لیکن لہجے میں ماں والی درشتگی نہیں تھی۔ ہم نے عارف سے بھی دوبارہ بلوچی میں درخواست کی، ان کی آنکھوں میں حیرت اور کچھ قبولیت کے آثار دیکھ کر ہم نے انہیں بتایا کہ ہم صرف قبرستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ خاصی بحث کے بعد وہ راضی ہو گئے۔ لیکن شرط لگائی کہ صرف ایک آدمی ان کے ساتھ چلے۔ ہم نے شرط مان لی۔

یوں ہم قبرستان کے اندر داخل ہو گئے۔ اگلا مرحلہ تصویریں بنانے کا تھا۔ قبرستان کانٹے دار جھاڑیوں سے اٹاپڑا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ جیب سے کیمرہ نکالا اور تصویریں بنانی شروع کی۔ عارف نے میری طرف دیکھا اور بلوچی میں بولا جتنی چاہو بنا لو یار بلوچ بھائی ہو۔

اس دوران عارف نے بھی اپنی والدہ والی باتیں دہرائیں اور بتایا کہ پہلے وہ جھاڑیاں وغیرہ خود صاف کرتے تھے۔ لیکن گزشتہ دنوں ان کا موٹر سائیکل سے ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس لیے اب ان کے لیے یہ کام ممکن نہیں ہے۔

عارف نے مزید بتایا کہ تقریباََ ایک سال قبل ایک شخص ان کے پاس آیا تھا جس نے بتایا کہ شیرٹن ہوٹل میں کچھ لوگ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ ہوٹل گئے تو 4 لوگوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے قبرستان کا تفصیلی حال احوال لیا۔ مگر قبرستان دیکھنے نہیں آئے۔

graves-670

قبرستان کا ایک منظر — فوٹو — اختر بلوچ –.

عارف کے مطابق کبھی کبھار لوگ آتے ہیں تصویریں بناتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرکے چلے جاتے ہیں لیکن ہوتا ہواتا کچھ نہیں ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہودیوں کو شُکر ادا کرنا چاہیئے کہ ان کی قبروں کے نگران بلوچ ہیں ورنہ یہودی مسجد کا تو آپ کو پتہ ہے نا کیا حال ہوا۔

God as feminist

 Kunwar Khuldune Shahid

And since God is a feminist, it shouldn’t be that big a surprise to see all his devout followers being feminists of the same scale as the deity himself

Among all the talk of omnipotence, omnipresence, omniscience and omnibenevolence of the Almighty, which seem to cover all the bases of veneration, some lesser known virtues of God quite often end up being shrouded. With the deity being at the receiving end of pretty much every single brand of eulogy and the subject of all kinds of tributes and testimonies, many have unfortunately overlooked his accomplishments for a cause that he has been particularly vocal about: women empowerment.

In fact, instead of acknowledging the work and endeavor of the earliest known feminist – whose struggle is said to have begun at least 13.798 billion years ago – a lot of the skeptics are hell bent on stamping the “misogynist” label on him. It’s about time we cleared the misconceptions regarding the one entity that can be dubbed the founding father of all waves of feminism known to the mankind.

As early as the 3rd century B.C.E, in the best selling Hebrew Bible, God made his feministic side pretty conspicuous when he discussed Hagar, Tamar, the Bethlehem concubine, and the daughter of Jephthah. Kicking on from there the deity in the Babylonian Talmud juxtaposes women with two of the archetypes of freedom and empowerment: slaves and cattle (Kidushin 2/A, 14/B, 25/B), and extols the four supreme characteristic that only women can acquire: gluttony, jealousy, obedience and laziness. He then goes on to spell out women’s status in Baba Batra: “Happy is he whose children are males, woe is him whose children are females.”

Through said woe, repeated in all kinds of divine scriptures, the deity laid the foundation of female liberation for the millennia to come.

To present every single pro-feminism quote in Judaism would be akin throwing half a library on our readers’ faces, and so instead we shall handpick some of the juiciest samples from the Talmud and the Midrashim:

“Anything a man wants to do with his wife, he shall do. It is like meat that has come from the slaughterhouse; wants to eat it salted, he eats it. Roasted–he eats it. Boiled–he eats it.”

God on the scrumptious delicacy that a woman is…

“A woman is a bag full of excrement and her mouth is full of blood–and everyone runs after her”

Here the deity explains the reasons behind the irresistible lure of women…

God’s feministic movement wasn’t obviously restricted to one particular people and so he expanded his struggle to include the Christians as well, manifestations of which can be seen in the Old Testament. Exodus, Genesis and Leviticus are probably three of the most vocal chapters in support of women rights in all of literature.

The towering value of women can be seen in Exodus 21: 7-10 which elaborates how there isn’t much wrong with selling your daughters and allowing them to be raped, while 22:16-17 orders men to marry virgins that they rape. Leviticus 19: 20-22 discusses the pardonable act of raping slave girls and 27:6 establishes the worth of girls as being 60 percent of boys. Again, we wouldn’t want to conjure another library of pro-feminism citations and so let’s just look at a few gems:

“To the woman he said, “I will greatly increase your pains in childbearing; with pain you will give birth to children. Your desire will be for your husband, and he will rule over you.” (Genesis 3:16)

The deity expressing his admiration for women…

“And I do not permit a woman to teach or to have authority over a man, but to be in silence.” (Timothy 2:12)

Here championing the cause for gender equality…

The deity’s next wave began in the Arabian Peninsula, where he orchestrated the Arabs’ feministic charge. The Quran told the Arabs how they should beat their wives (4:34) and how women are half in legal terms (2:282). This protected women from the strenuous task of becoming leaders and ensured that they had support every time they had to narrate a tiring account in the court. Furthermore by praising women as fields that can be ploughed (2:223), the main source of fruition of joy and prosperity was appositely established.

These were God’s feministic adventures in the Abrahamic realm, but his historic pivot towards east also showcased the quintessence of feminism. The Mahabharata and the Ramayana clamour for the cause, with the former cementing women atop their gaudy throne by declaring them the “root of all evil” with their most prominent desire being transgression of the “restraints assigned to them” (Anusasana Parva). Laws of Manu, V, 147-8 pretty much summarises the deity’s yearn for women empowerment:

“By a girl, by a young woman, or even by an aged one, nothing must be done independently, even in her own house. In childhood a female must be subject to her father, in youth to her husband, when her lord is dead to her sons; a woman must never be independent”

While the Ramayana established a woman’s glory by elucidating that, “Women are impure by their very birth, they blight all virtues, their nature is to be vicious, fickle and sharp-tongued. A woman’s only duty is devotion of body, speech and mind to her husband”

Even Buddhism, wherein the deity’s involvement appears to be minimal, one can extricate a feministic essence. Exclusively feminine virtues like “irritability, jealousy, greed and unintelligence” are commended in the Anguttara Nikaya, which also goes onto rubber stamp the prognostication that women “can never be enlightened.” Similarly Jainism propagates the same assertion, highlighting how women can’t gain ultimate spiritual liberation but of course they can try and become men in the next life so as to fulfill the ambition of liberation.

We have showcased just a few examples from some of the biggest religious realms. Rest assured that all other religions depict the feministic side of God in all its glory. God is, and has always been, a staunch feminist, and the special tribute he reserves for the female reproductive system in all of his scriptures should be proof enough. And since God is a feminist, it shouldn’t be that big a surprise to see all his devout followers being feminists of the same scale as the deity himself.

Hence, for all budding feminists we would highly recommend reading up on God’s take on women and the concept of feminism. It’d help them clear their mind up with regards to the contradictions facing off inside their brains and in turn ensure that they don’t end up being (oxy) morons.

Muslim Man Honor Kills His Daughter and Her Boyfriend in Pakistan

sharia unveiled

Muslim Girl Crying 3

 

By Our Correspondent / The Express Tribune

Di Khan, Pakistan: A man reportedly killed his daughter and her boyfriend after he found them in a room inside his house in Kathar Yanwalla Mohallah early Saturday morning. A city police official said the father came to the police station following the incident and confessed to his crime. Abdur Rauf Khattak told the city police he woke up to go to the bathroom during the night when he saw a light switched on in one of the rooms. When he entered the room, he saw his 15-year-old daughter Sabina Bibi sitting with an unidentified boy. Seeing this, Khattak got furious and killed them both. Khattak said he suffocated the boy to death using a pillow and strangled his daughter using a rope. The boy was later identified as Asad Abbas, 20. Khattak is currently being held in a lock up at…

View original post 17 more words

Muslim Man Murders His Daughter and Granddaughters in Honor Killing Rampage

sharia unveiled

Muslim Girl 10

 

By Nida Nida

It was spine-chilling for Pakistanis to hear news of the grandfather who killed his daughter and his own grandchildren only for protecting the so-called honour of the family. The crime was that the daughter had married a man of her own choice, and not that of the head of her family. The father was so vindictive he waited five years to take revenge for his ‘honour’. He was quite satisfied after taking his revenge on the grand children, who had nothing to do with their mother’s decision to marry of her own choice. He didn’t stop there either. He also killed two young men, brothers of the groom, as he held them responsible too for dishonouring his prestige.

Ms. Shahnaz Tahir, resident of Tara Singh village in Depalpur, Okara district, Punjab Province, was brutally murdered by her father and his henchmen on the night of 22nd…

View original post 1,349 more words