مذہب اور تہذیب کا تضاد

 

 
 
        مذہب اور تہذیب کا تضاد
  دانیال رضا
 

ایک بہت بڑی سماجی غلطی اور شعوری جرم جو عام طور پر کیا جاتا ہے جس سے ملا اپنی دوکانداری چلانے اور ظالم حکمران اپنا استحصال جاری رکھنے کے لیے بھی عوامی ذہنوں کو زہر آلود کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ مذہب اور ثقافت کو ایک ہی شے تصور کیا جا تا ہے یا کرایا جاتا ہے اسی وجہ سے بہت سے عام لوگ مذہب اور ثقافت میں فرق نہ کرنے اور نہ سمجھنے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو کر کئی قسم کے ناگہانی خوف وہراس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور زندگی کو زندگی کی طرح گزارنے کی بجائے زندگی کو مشکل امتحان تصور کر کے زندگی میں ہی موت کے بھیانک عذاب کا شکار ضرور ہو جاتے ہیں۔ یہ مذہب کو چھوڑنا ثقافتی بے حرمتی سمجھتے ہیں اور مذہب سے چمٹے رہنا ثقافتی ورثہ خیال کرتے ہیں ۔ جبکہ مذہب اور ثقافت  آپس میں متضاد ہی نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں اور ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں ۔ مذہب اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے پہلے ان کی تعریف کرنا ضروری ہے ۔
آسان الفاظ میں ثقافت انسانوں کے کسی گروہ کا کسی خاص علاقے میں مشترکہ طور پر مخصوض ماحول کے مطابق رسم ورواج اور ضرورتوں کے تحت ایک زبان، لباس،اقدار کے حوالے سے زندگی گزرنا کہلاتاہے جو انسانی محنت کی ہیت و کیفیت یا زرائع پیداوار کی نوعیت کے گرد گھومتی ہے ۔ اور یہ رسم ورواج یا انسانی تہذیب سماجی ارتقار کے دروان ا پنے موسم ، ماحول اور آلات پیداوار سے جنم پذیر ہوتے ہیں جس سے اس میں مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رہتا اور تہذیب وتمدن پروان چڑھتا ہے ۔ رسم رواج یہاں کے لوگوں کی زندگی کا احساس بن جاتے ہیں۔ثقافت کا براہ راست تعلق زمین اور ٹھوس مادی حالات سے ہے جبکہ مذاہب کا تعلق آسمانوں اور غیر مادی حالات سے جوڑ ہوتاہے ۔ثقافت زمین سے اگتی ہے لیکن مذہب آسمان سے ٹپکتا ہے ۔ ثقافت انسانی تاریخی ورثہ ہے جبکہ مذہب کوئی انسانی ورثہ نہیں اور نہ ہی یہ اس کو مانتا ہے بلکہ تمام مذاہب ہر تاریخی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی نفی کرتے ہیں اور اپنی اعلی و بتر حاکمیت کا بازور طاقت تقاضہ کرتے ہیں جس سے ان میں ناقابل حل لڑائی اور تضاد موجود ہے ۔ ثقافت کسی جبر کو نہیں مانتی بلکہ اس کی انکاری ہے ۔ ثقافت کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ انسان اسی کے تحت زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جبکہ مذاہب انسانوں اور معاشرے سے نہیں ہوتے اس لیے انکو اپنے نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے مذہب میں جبر کا عنصر آنا غیر منطقی نہیں ہے ۔ مذاہب کی جبریت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ مذہب تمام دنیا کے لیے ایک ہی ہے اور ایک جیسا ہی ہوتا ہے یعنی مذہب تمام انسانی تاریخی ثقافت اور تہذیبی ورثے کو ورند کر ہی ممکن ہے کیونکہ اس میں کوئی تبدیلی کی گنجائش ممکن نہیں ہوتی جبکہ ثقافتیں مختلف اور علاقائی ہوتی ہیں جن میں مسلسل ارتقائی عمل جاری رہتا ہے جس سے یہ سماج میں تعمیرو ترقی کا باعث بنتی ہیں جبکہ مذاہب اس کے الٹ سماج کو ماضی میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مذہب کو نہ مانے سے اذیت ناک اور خوفناک سزائیں ملتی ہیں یعنی مذاہب کی بنیاد خوف ہے جبکہ ثقافت رضاکارانہ ہے جس کو نامانے کی کوئی سزا نہیں ہے جبکہ ثقافتی اقدار حقیقی خوشی اور مسرت کا ذریعہ ہیں ۔ثقافت انسانی شعور اور اسکے رویوں کی اعکاس ہے ۔ جبکہ مذہب اس سے لاتعلق ہے ۔ مذہبی خود بننا پڑتا ہے لیکن ثقافتی بننا نہیں پڑتا کیونکہ ہر انسان میں ا پنے سماج کا ثقافتی رنگ بڑی مضبوطی سے موجود ہوتا ہے ۔ مثلا برصغیر میں رنگین یا شوخ و چنچل شلوار قمیض، دھوتی کرتہ یا عورتوں کا دوپٹہ کو ئی مذہبی لباس نہیں ہے بلکہ ثقافتی لباس ہے جو انڈو پاک میں مسلم ، ہندو ، عیسائی اور سکھ تمام مذاہب کے لوگ پہنتے ہیں خواک ، میوزک ، گیت ، رہن سہن ، شادی بیاہ کی رسم ورواج ، وغیرہ مذہبی نہیں ہیں بلکہ علاقائی ثقافتی ہیں ۔ جب کہ پاکستان میں عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت خیال کیا جاتا ہے اور اسکو اپنانے کی خود ساختہ کوشیشیں کی جاتیں ہیں جو بالکل غلط ہے کیونکہ عرب میں پیٹ کا رقص ، گھوڑ سواری یا اونتوں کی ریس وغیرہ وہاں کی ثقافتی روایات کا حصہ ہیں جو یقیناًاسلام میں ممنوع ہیں ۔ اس لیے ثقافت ایک علاقائی فطری عمل کا نام ہے جبکہ مذاہب مصنوعی ، سطحی اور غیر سماجی نظرایات کی غمازی کرتے ہیں ۔
تہذیب و ثقافت انسانی سماجی ارتقا کا تسلسل ہے جبکہ مذاہب ارتقا کی مذمت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف شدید مذاحمت بھی کرتے ہیں ۔ رسم وراج ، اقدار ، لباس ،رنگ ، زبان ، موسیقی اورگیت زندگی کا احساس ہے جبکہ مذاہب انسانی احساسات سے عاری  ہیں جس میں خوشی سے زیادہ غم ہے یہ صرف  احکامات اور اسکی سختی سے تکمیل کا نام ہے یعنی جزا اور سزا کا جس میں فوقیت سزا کو ہی حاصل ہے ۔ ثقافت تغیر پذیر ہے جبکہ مذاہب حتمی اور مستقل کہلاتے ہیں اس کے باوجود کے سماجی تبدیلیاں انکی شکلیں بدلتی رہتی ہیں کیونکہ تمام مذاہب جو زمانہ قدیم میں تھے وہ آج بالکل اسی طرح موجود نہیں ہیں جس طرح ماضی میں تھے اور نہ ہی یہ اس طرح رہ سکتے ہیں ۔ آج چودہ سو احادیث کو ضعیف یا کمزور کہہ کر در کر دیا گیا ۔ قران پاک کے کئی مختلف ترجمے بازار میں موجود ہیں کیونکہ عربی زبان کے ہر لفظ کے کم ازکم بارہ معنی ہیں اور ہر فرقہ دوسرے کے ترجمے کو نہیں مانتا ۔ بائبل ، گرو گرانتھ ، تور ایت یا دوسری مذہبی کتابوں بھی تبدیل ہو چکی ہیں اور آج اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں ۔اور یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ جبکہ تمام مذاہب کو بظاہر ٹھوس اور آخیری کہا ضرور جاتا ہے ۔تہذیبیں اور ثقافتیں کھبی آخیری اور مکمل نہیں ہوتیں جبکہ مذاہب مکمل اور آخیری کہلاتے ہیں ۔ مذاہب غیر لچکدار جبکہ رسم ورواج لچکدار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ
تمام مذاہب پر سماجی حالات کابہت گہرا اثر ہوتا ہے ۔خوشحال اور پرسکون معاشروں میں جنونیت ، کٹر پن کی بجائے آزاد خیالی، اور ترقی پسندی کا رجحان نمایاں ہو تا ہے ۔جبکہ انتشار زدہ اور معاشی بدحال ممالک میں تنگ نظری، خون اور وحشت مذاہب میں اپنا مسکن بنا لیتی ہے ۔ پاکستان میں مذہبی درندگی اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے ۔ جبکہ یورپی اور ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان پاکستان جیسے پسماندہ اور انتہائی رجعتی نہیں ہیں کیونکہ جدید اور خوشحال سماجی حالات  شعور کو متاثر کرتے ہیں ۔  اسی طرح امیر مذہبی اور غریب مذہبی میں بہت فرق پایا جاتا ہے مذہب بے شک ایک ہی ہو لیکن اس پر عمل درآمد اور لگاو ماحول اور معاشرہ بدل دیتا ہے ۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب پاکستانی سماج آج کی نسبت کہیں بہتر تھا تب مذہبی جنونیت اتنی درندہ صفت اور خونی نہیں تھی جتنی آج ہو چکی ہے ۔ جس کی بڑی وجہ سرمایہ داری اور سامراجیت کا استحصال  قائم رکھنے اور اسکے خلاف عوامی تحریکوں کی مذاحمت کو تباہ کرنے کے لیے مذاہب میں مقامی اور عالمی سرمایہ کاری سے چلنے والے بڑے منافع بخش کاروبار ہیں ۔  ایک طرف خوفناک طبقاتی تفریق ہے تو دوسری طرف عوامی مایوسی سے جنم لینے والے رجعتی سماجی حالات ہیں جو انقلابی پارٹی اور قیادت کی عدم موجودگی میں عوام کو اپنی طبقاتی جدوجہد کے راستوں سے بھٹکا رہے ہیں اس سے مزدور تحریک میں ایک سکوت کی کیفیت ہے جس سے ملائیت کی موجودہ قتل گری کا تماشا قائم ہے ۔ فطرت کا یہ مسند قانون ہے کہ حالات کھبی ایک سے نہیں رہتے انکو لازم بدلنا ہو تا ہے اور پاکستان کے یہ بدتر حالات بھی بدلیں گئے جس کا فیصلہ کن رخ عوام کو ہی متعین کرنا ہو گا ۔
پاکستان کوئی ایک ملک نہیں بلکہ کئی مختلف زبانوں ، ثقافتوں اور تہذیبوں کا دل کش اور خوبصورت گوارہ ہے جس کو سرمایہ داری کی مرکزیت اور اس کے مالیاتی استحصال نے کچل کر خاکستر دیا ہے ۔ پیارومحبت اور موسیقی و رقص کی جگہ نفرتیں اور خانہ جنگیوں نے لے لی ہے۔ سرمایہ داروں ، جاگیر داروں ، وڈیروں ، فوجی جرنیلوں اور سرداروں کے حکمران طبقے نے اپنے بینک بیلنس میں اضافے ، جاگیروں میں بڑھوتری ، مالیاتی غلبہ اور اقتدار کی ہوص نے پاکستان میں تہذیب و ثقافت کی تعمیرو ترقی کے تمام راستوں کو بند کر دیااور بھوک ننگ افلاس کو پروان چڑھایا ان حالات میں انسانی زندگی کو قائم رکھنا ہی ممکن نہیں رہا ۔ اس میں تہذیب وثقافت کہاں پنپ یا زندہ رہ سکتی تھی ۔ پاکستان کے عوام اور محنت کش طبقے ان ابتر سماجی حالات کی تبدیلی کے لیے کئی بار سیاسی میدان میں اترا لیکن انکی روائتی پارٹیوں اور قیادتوں نے ان سے مسلسل غداری کی اور اسی سرمایہ کے جبر کو مختلف طریقوں سے جاری رکھا کھبی جمہوریت اور کھبی آمریت کی شکل میں کھبی مسلم لیگوں اور کھبی پیپلزپارٹی اور اب پی ٹی آئی کی شکل میں عوام نے تمام موجودہ پارٹیوں کی قیادتوں کو آزما لیا اور سب نے انکو ماسوائے مایوسی اور ناامیدی کے کچھ نہیں دیا اور جو دیا وہ ذلت اور رسوائی ہے ۔
پاکستان میں آج کے خون ریز حالات کا کوئی اور نہیں بلکہ موجودہ نظام اور اسکے حکمران ذمہ دار ہیں جومختلف نقاب اڑھ کر اور بھس بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی بنیادی تبدیلی نہیں ہوتی اور ان سب کی موجودگی میں ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ یہ چہروں کی تبدیلی ہی حقیقی عوامی اور سماجی تبدیلی میں بڑی روکاوٹ ہے ۔
پاکستان میں آج بہت سے ماضی کے بائیں بازو کے سٹالنسٹ رہنماوں میں اپنے نظرایات کی سیاسی اور سماجی کمزوری کے باعث سوشلسٹ انقلاب کی صلاحیت اور امید ٹوٹ چکی ہے جس سے انکا یہ نظریاتی خسی پن انکو این جی اوز اور نام نہاد ثقافتی تحریکوں میں دفن کر کے سرمایے کی دیوی کے قدموں پر سجدہ ریز کر چکا ہے ۔  کوئی جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ سے داغ دار ہے تو کوئی جئے سندھ کے تعصب کی بالی چڑھ چکا ہے کوئی پختون اور کوئی بلوچ نسل اور ثقافت کی کند چھری سے عوام کو ذبح کر رہا ہے جس میں سرائیکی تعصب کو بھی ابھارا جاتا ہے اور جن کا دا لگ گیا انہوں نے بیرونی امداد پر انسانی ہمدردی کا دھندہ شروع کر دیا یعنی این جی اوز کی دوکاندی چلا رہے ہیں ۔اب توچین میں ماو کے مسخ شدہ سوشلسٹ انقلاب پر ثقافتی انقلاب کا لیبل لگانے والے آج اس ٹریڈ مارک سے خود ہی شرمندہ ہیں اور پچھلے دنوں چین کے نئے وزیز اعظم نے سرکاری طور پر انقلاب سے معذرت بھی کر لی ہے ۔ جو یقیناًان ترقی پذیر ممالک میں ثقافتی تحریکوں اور موزئے تنگ کے نظریے انقلاب کو مزید مایوس کرئے گئی ۔ 
طبقاتی سماج میں طبقاتی تہذیب و تمدن اور ثقافت ہی راج کر تی ہے ایک طرف غربت کی ذلت ہوگی تو دوسری طرف امارت کی بے ہودگی ایک طرف احساس بدتری بڑھے گا تو دوسرے طرف احساس کمتری کا زہر ہر اخلاقیات کو برباد کر دے گا جو آج پاکستان کا ورثہ بن چکا ہے ۔ ثقافتی اقدار تب ہی زندہ رہ سکتی اور ترقی کر سکتی ہیں جب انسان خوشحال اور پر سکون ہوگا اور سماجی ترقی ہو گی۔ البتہ معاشرتی جمود میں زاول پذیر ثقافت اور ادب ہی عزت و اخترام کی کالی دستار کا حق داربنے گا۔ جب تک ان پسماندہ حالات سے ٹکرا کر انہیں تبدیل نہ کیا جائے ۔
جہاں بھوک اور غربت ہو گی وہاں زبان، ادب ، تہذیب و ثقافت انسانی سوچ سے بہت چلے جاتے ہیں نازک ، شگفتہ ، ملائم اور جمالیاتی احساسات پتھر بن جاتے ہیں ۔ جب تک انسان کی اقتصادی ضروریات کو پورا نہیں کیا جاتا کوئی انسانی اور سماجی آزادی ممکن نہیں ہے اور انسان کی حقیقی آزادی کا مطلب اس کی ضرویات سے آزادی ہے جس کے بغیر کوئی زبان و ادب اور تہذیب و تمدن اور ثقافتی اقدار آزاد نہیں ہو سکتیں ۔ اس کے لیے ہمیں مذہبی بنیاد پرستی اور طبقاتی استحصال کو مسترد کرتے ہوئے سرمایے کے بوجھ تلے کچلی ہر انسانی آزادی کو آزاد کرانا ہو گا ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s